حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کمزور اور خوف زدہ مسلمان نہ صرف قرآن کی نگاہ میں کوئی مقام نہیں رکھتا بلکہ وہ اس بنیادی "عملِ صالح" کو نظر انداز کرکے دائمی خسارے کی راہ اختیار کرتا ہے جسے قرآن دشمنانِ حق کو غضبناک کرنا قرار دیتا ہے۔
قرآنی کی نگاہ میں ایمان اور عزت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ قرآن مجید ایسے مسلمان کا تصور پیش نہیں کرتا جو دشمن کے خوف سے مرعوب ہو یا حق کے دفاع میں خاموشی اختیار کر لے۔ حق و باطل، ایمان و کفر کی کشمکش دائمی ہے، کیونکہ کفر ہمیشہ نورِ الٰہی کو بجھانے کی کوشش کرتا ہے، اگرچہ اللہ تعالیٰ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے۔
اسی تناظر میں سورۂ توبہ کی آیت 120 مؤمن کی عملی ذمہ داری کو واضح کرتی ہے:
«لَا یُصِیبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِی سَبِیلِ اللَّهِ وَلَا یَطَئُونَ مَوْطِئًا یَغِیظُ الْکُفَّارَ وَلَا یَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَیْلًا إِلَّا کُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ.»
ان پر اللہ کی راہ میں نہ پیاس لگتی ہے، نہ تھکن اور نہ بھوک، اور نہ وہ ایسی جگہ قدم رکھتے ہیں جس سے کافر غضبناک ہوں، اور نہ دشمن سے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں، مگر یہ سب ان کے لیے عملِ صالح کے طور پر لکھ دیا جاتا ہے۔
آج کے دور میں "عملِ صالح" کو زیادہ تر انفرادی عبادات، جیسے نماز، روزہ اور زکوٰۃ تک محدود سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ مذکورہ آیت اس کی ایک وسیع تر تعبیر پیش کرتی ہے۔ قرآن کے مطابق اللہ کی راہ میں ہر وہ قدم جو دشمنانِ دین کو بے چین اور غضبناک کرے، عملِ صالح شمار ہوتا ہے۔
اس حقیقت کو سورۂ عصر مزید واضح کرتی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وَالْعَصْرِ. إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِی خُسْرٍ. إِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ.» کہ تمام انسان خسارے میں ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال انجام دیے، ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔ اس بنا پر ایمان کے ساتھ عملِ صالح نجات کی بنیادی شرط ہے، اور سورۂ توبہ کی روشنی میں اللہ کی راہ میں ایسا اقدام بھی عملِ صالح ہے جو باطل کی قوتوں کے لیے باعثِ اضطراب بنے۔
یہ آیات امتِ مسلمہ کو یاد دلاتی ہیں کہ عزت، استقامت اور حق پر ثابت قدمی ہی قرآنی مؤمن کی پہچان ہے۔ اگر مسلمان خوف، مصلحت یا بے عملی کا شکار ہو جائے تو وہ اپنی دینی شناخت اور اجتماعی قوت سے محروم ہو جاتا ہے۔
قرآن کے مطابق کمزور، مرعوب اور بزدل مسلمان محاذ حق کے قابل نہیں، کیونکہ عزت صرف اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ ایمان کے لیے ہے۔ اسی لیے ہر وہ جدوجہد جو حق کی حمایت کے باوجود دشمنانِ دین پر کوئی اثر نہ ڈالے، اس کی حقیقی روح، انقلابی شعور اور ایمانی اصالت پر غور و فکر کی ضرورت باقی رہتی ہے۔









آپ کا تبصرہ